Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نفلی روزے کے دوران حیض شروع ہوجائے تو قضا لازم ہے؟
- Fatwa no.
- 0604-HAB
- Issued
- 14 محرم الحرام 1447ء 10 جولائی 2025. دار الافتاء اهلسنت
Question
نفلی روزے کے دوران حیض شروع ہو جائے تو قضا لازم ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ اگر کوئی خاتون دس محرم الحرام کا نفلی روزہ رکھے ، لیکن عصر کے بعد اور مغرب سے تقریبا آدھا گھنٹہ قبل ایام مخصوصہ کا خون شروع ہو جائے ، تو کیا اس صورت میں اس روزے کی قضا لازم ہوگی ؟ جواب
Answer (beginning)
نفلی روزے کے دوران بھی اگر حیض شروع ہو جائے تو وہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس روزے کی قضا لازم ہوتی ہے ۔ سید طحطاوی و شامی اور علامہ ابن نجیم مصری رحمہم اللہ لکھتے ہیں ، والنص للبحر: "اذاشرعت في صوم التطوع ثم حاضت فانه يلزمها قضاؤه فلا فرق بين الصلاة والصوم، ذكره في فتح القدير من الصوم، وكذا في النهاية“ ترجمہ : اگر کوئی خاتون نفلی روزہ شروع کرے پھر دوران روزہ اسے حیض آجائے تو اس پر اس روزے کی قضا لازم ہے ، اس معاملے میں نفلی نماز و روزہ میں کوئی فرق نہیں، اسے فتح القدیر میں روزے کے بیان میں ذکر کیا، اسی طرح نہا یہ میں بھی ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.