Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

احرام کی حالت میں ابرو اور پلکوں کے بال ٹوٹنے پر کفارہ ہوگا؟

Question

احرام کی حالت میں ابرو اور پلکوں کے بال ٹوٹنے پر کفارہ ہو گا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ احرام میں بال ٹوٹنے کے احکام پلکوں اور ابروؤں کے بالوں کو بھی شامل ہوں گے ؟ جواب

Answer (beginning)

احرام میں بال ٹوٹنے کے احکام جسم کے دیگر بالوں کی طرح پلکوں اور ابروؤں کو بھی شامل ہیں، یعنی اگر ایک سے تین تک بال ٹوٹے ، تو ہر بال کے بدلے میں ایک مٹھی اناج یا ایک ٹکڑا روٹی یا ایک چھوہارا خیرات کرے اور اگر تین سے زیادہ بال ٹوٹے ہیں، تو صدقہ فطر دے ، بہتر یہ ہے کہ ایک بال ٹوٹنے پر بھی پورا صدقہ دید ہے ۔ فقہائے کرام کی عبارات میں بال ٹوٹنے کے احکام بیان کرتے ہوئے ابروؤں اور پلکوں سمیت مکمل بدن کے بالوں کو ہی شامل کیا گیا ہے، چنانچہ احرام میں حرام کاموں کو شمار کرتے ہوئے امامِ اہلِ سنت ، امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ تعالٰی علنيه (وصال : 1340هـ/1921ء) لکھتے ہیں : یہ احرام تھا، اس کے ہوتے ہی یہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.