Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کھڑی ہوئی ٹرین میں نماز شروع کی اور ٹرین چل پڑی تو نماز کا حکم؟
Question
کھڑی ہوئی ٹرین میں نماز شروع کی اور ٹرین چل پڑی تو نماز کا حکم ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے کھڑی ٹرین میں ظہر کی فرض نماز شروع کی اور ٹرین چل پڑی، تو فرض باقی نہ رہے ۔ کیا اب فور اسلام پھیر کر نماز توڑ دے یا ویسے ہی ٹوٹ گئی یا نفل کے طور پر مکمل کرے ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں ٹرین ملتے ہی یہ نماز فرضوں سے نفل میں تبدیل ہو جائے گی ، لہذا بطور نفل دو یا چار رکعت کی صورت میں بغیر سجدہ سہو اس نماز کو مکمل کر لیا جائے، البتہ یادر ہے کہ اس نماز کو بطور نفل مکمل کرنا مستحب ہے ، لازم نہیں، لہذا نماز مکمل کیے بغیر سلام پھیرنے کی اجازت ہے ، البتہ جب ٹرین ٹھہرے گی تو فرض نئے سرے سے ادا کرنا ضروری ہوں گے ۔ مسئلہ کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ تحریمہ حقیقت نماز کی اصل و بنیاد ہے اور فرض و نفل ہونا نماز کا وصف ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.