Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جھوٹی قسم پر کفارہ

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
810-FAM
Issued
08 محرم الحرام 1447ھ /04 جولائی 2025. DaruliftaAhlesunnat

Question

جھوٹی قسم پر کفارہ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی نے جھوٹی بات پر اللہ عزوجل کی قسم کھائی ، تو کیا اس پر قسم کا کفارہ ہوگا؟ جواب

Answer (beginning)

جھوٹی قسم کھانا، ناجائز و حرام و گناہ کبیرہ ہے، اس سے بچنا بہت ضروری ہے ، حدیث پاک میں اس کی شدید مذمت وارد ہوتی ہے ۔ اگر کسی نے جھوٹی قسم کھالی ہو تو اس پر توبہ و استغفار لازم ہے ، البتہ کفارہ لازم نہیں ۔ جھوٹی قسم کی مذمت کے متعلق صحیح بخاری شریف کی حدیث پاک میں ہے : ”عن عبد الله بن عمرو: عن النبي صلى الله عليه وسلم قال "الكبائر الإشراك بالله وعقوق الوالدين وقتل النفس واليمين الغموس “ ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر ورضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، کسی جان کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا کبیرہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.