Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ناپاکی کی حالت میں دکھاوے کے لیے نماز پڑھنا کیسا؟

Question

ناپاکی کی حالت میں دکھاوے کے لیے نماز پڑھنا کیسا؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے جان بوجھ کرنا پاکی کی حالت میں عصر اور مغرب کی نماز صرف دکھاوے کے لیے پڑھی مگر اس نے نماز کی نیت نہیں کی اور نہ ہی نماز میں اس نے کچھ پڑھا، صرف ارکان ادا کیے اور اپنے اس عمل کو گناہ سمجھتے ہوئے صرف دکھاوے کے لیے کیا ، تو اس پر کیا حکم شرع ہو گا ؟ کیا ایسے شخص کو تجدید ایمان کرنا ہو گا ؟ جواب

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں ظاہر یہی ہے کہ نماز کو ہلکا جاننے ، یا نماز کے ساتھ مذاق وغیرہ کی نیت نہیں تھی، اور ویسے ہی بغیر نیت کے اور کچھ پڑھے بغیر صرف نماز جیسے افعال ادا کئے تو یہ عمل کفر نہیں ہو گا ۔ البتہ دکھاوے کے طور پر ایسا کرنے سے مراد اگر یہ ہو کہ وہ شخص ویسے تو نماز نہیں پڑھتا، مگر لوگوں کے سامنے نماز جیسے افعال ادا کر رہا ہے تاکہ وہ اسے نمازی اور نیک آدمی سمجھیں، تو یہ ریا کاری ہے جو کہ ناجائز وگناہ کبیرہ ہے اور قرآن و حدیث میں اس کی مذمت وارد ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.