Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جماعت کے بعد امام نے نماز کا اعلان کر دیا پھر تکبیر تشریق پڑھی تو واجب ادا ہوگیا؟
Question
جماعت کے بعد امام نے نماز کا اعلان کر دیا پھر تکبیر تشریق پڑھی تو واجب ادا ہو گیا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی مسجد کے امام صاحب نے نو (9) ذوالحجۃ الحرام کے دن عصر کی نماز کے سلام کے فوراً بعد بھول کر پہلے نماز عید کی جماعت کے متعلق اعلان کیا، اعلان کے بعد انہیں کسی نمازی نے اشارہ کر کے یاد کروایا، تو انہوں نے تکبیر تشریق کہی، تو کیا بھول کر اس طرح کرنے سے امام صاحب کا تکبیر تشریق کا واجب ادا ہو گیا یا نہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
شریعت مطہرہ کی روشنی میں نو (9) ذوالحجۃ الحرام کی نماز فجر سے لیکر تیرہ (13) ذوالحجۃ الحرام کی نماز عصر تک ہر فرض نماز جو جماعت مستبہ کے ساتھ ادا کی گئی ہو، اس کے سلام کے فوراً بعد ایک بار بلند آواز کے ساتھ تکبیر تشریق (الله أكبر اللهُ أَكْبَر لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ اکبر اللهُ أَكْبَر، ولله الحمد) کہنا واجب ، جبکہ تین بار کہنا افضل ہے ، یہ حکم اس وقت تک ہے ، جب تک نماز کے بعد کوئی ایسا عمل نہ کیا ہو جس کی وجہ سے نماز پر بناء نہ ہو سکے ، مثلاً بات چیت کرنا ، قہقہ لگا نا یا جان بوجھ کر حدث طاری کرنا وغیرہا، تو اس صورت میں تہ تشریق ساقط ہو جائے گی، اس کے بعد تکبیر تشریق پڑھنے سے تکبیر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.