Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دو قربانیاں کی ہوں تو ایک قربانی کا گوشت صدقہ اور دوسری کا گھر کے لیے رکھنا کیسا؟
Question
دو قربانیاں کی ہوں تو ایک قربانی کا گوشت صدقہ اور دوسری کا گھر کے لیے رکھنا کیسا؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص نے دو قربانیاں کی ہوں ، ان میں سے ایک قربانی (منت کی قربانی کے علاوہ) واجب قربانی ہو اور دوسری قربانی نفلی ہو، تو کیا ایسا شخص یوں کر سکتا ہے کہ وہ اپنے ایک جانور کی قربانی کا سارا گوشت صدقہ کر دے اور دوسرے جانور کی قربانی کا سارا گوشت گھر والوں کے لیے رکھ لے؟ براہ کرام اس بارے میں شرعی رہنمائی فرما دیں ۔ جواب
Answer (beginning)
شرعی طور پر قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنا مستحب ہے ، یعنی ایک حصہ غریب لوگوں کے لئے ، ایک حصہ اپنے قریبی رشتہ داروں کے لئے اور ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لئے ، خواہ وہ قربانی نفی ہو یا واجب جبکہ منت کی نہ ہو)، البتہ اگر کسی شخص نے سارا گوشت گھر کے لئے رکھ لیا، یا تمام ہی صدقہ کر دیا، تو یہ بھی ، جائز ہے ، مگر ایسے شخص کو ثواب کم ملے گا، لہذا پوچھی گئی صورت میں مذکورہ شخص کا ایک قربانی کا سارا گوشت صدقہ کرنا اور دوسری قربانی کا سارا گوشت گھر رکھنا جائز ہے ، لیکن اس کے لئے بھی مستحب یہی ہے که بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق دونوں جانوروں کے گوشت کے تین تین حصے کرے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.