Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
طواف الزیارۃ کے 3 پھیرے ایام نحر کے بعد کرنا
- Answered by
- ابو محمد محمد فراز عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 0004-OKR
- Issued
- 07 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ / 04 جون 2025. DaruliftaAhlesunnat
Question
طواف الزيارة کے 3 پھیر سے ایام نحر کے بعد کرنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یہ تو مجھے معلوم ہے کہ طواف الزیارۃ کے اگر تین یا اس سے کم پھیرے بھی چھوڑ دئے تو دم لازم ہوتا ہے ، میرا سوال یہ ہے کہ اگر طواف الزیارۃ کے چار پھیرے ایام نحر میں ہی کئے مگر تین پھیر سے ایام نحر کے بعد کئے تو اب کوئی کفارہ لازم ہوگا یا نہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں طواف الزیارۃ کے تین یا اس سے کم پھیر سے اگر ایام نحر گزرنے کے بعد کئے جائیں تو ہر پھیرے کے بدلے میں ایک صدقہ فطر لازم ہوتا ہے ۔ فتح القدیر میں ہے : ” و جملته أن عليه في ترك الأقل من طواف الزيارة دما، وفي تأخير الأقل صدقة “ ترجمہ : خلاصہ کلام یہ کہ طواف الزیارۃ کے اکثر سے کم پھیرے چھوڑ دینے میں دم لازم ہوگا اور اکثر سے کم پھیروں میں تاخیر کرنے سے صدقہ لازم ہوگا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.