Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

طواف کی دو رکعت فوراً پڑھنا لازم ہیں یا بعد میں بھی پڑھ سکتے ہیں؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
0583-HAB
Issued
01 ذوالحجۃ الحرام 1446ء / 29 مئی 2025ء

Question

طواف کی دو رکعت فوراً پڑھنا لازم ہیں یا بعد میں بھی پڑھ سکتے ہیں ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ طواف عمرہ مکمل ہو جانے کے بعد جو دو رکعت نماز ادا کی جاتی ہے ، اس نماز کو طواف کے فوراً بعد پڑھنا ضروری ہے یا تاخیر سے بھی پڑھ سکتے ہیں ؟ نیز اگر کسی نے طواف کے بعد سعی کر لی پھر حلق کروالیا اور ان دو رکعتوں کو اگلے دن ادا کیا تو کیا اس پر دم لازم ہوگا ؟ جواب

Answer (beginning)

طواف کے بعد دورکعت نماز واجب ہے اور اگر مکر وہ وقت نہ ہو تو طواف کے فوراً بعد پڑھنا سنت اور اس میں تاخیر کرنا مکروہ ہے، لہذا مکروہ وقت نہ ہونے کی صورت میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے تاکہ سنت فوت نہ ہو ، لیکن اگر کسی نے تاخیر کی اور اس کو اسی دن یا اگلے دن غیر مکروہ وقت میں ادا کیا تو تب بھی دو رکعت ادا ہو جائیں گی اور دم لازم نہیں ہوگا اگر چہ سعی کرنے یا حلق کروانے کے بعد ہی ادا کرے ۔ شرح اللباب میں ہے : ” ( والسنة الموالاة بينهما وبين الطواف) ای بعد فراغه ان لم یکن وقت الكراهة ترجمہ : اور طواف کی دورکعتوں کو طواف کے فوراً بعد ادا کرنا سنت ہے جبکہ مکروہ وقت نہ ہو ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.