Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پچاس طواف کرنے والی فضیلت کس کو حاصل ہوگی؟ حدیث پاک کی شرح
Question
پچاس طواف کرنے والی فضیلت کس کو حاصل ہوگی ؟ حدیث پاک کی شرح فہ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ پچاس طواف والی فضیلت ایک ہی بار کے سفر میں کرنے والے کے لیے ہے یا ساری زندگی کے پچاس مکمل ہو جائیں ؟ دونوں صورتوں میں سارے ہی طواف شمار ہوں گے ، خواہ حج و عمرہ کے طواف ہوں یا نفلی ؟ جواب
Answer (beginning)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "جس شخص نے بیت اللہ کا پچاس مرتبہ طواف کیا ، وہ گنا ہوں سے ایسے نکل جاتا ہے ، جیسا کہ اُس دن تھا ، جس دن اس کی ماں نے اُسے پیدا کیا ۔ اس روایت پر کلام کرتے ہوئے شارحین حدیث نے لکھا کہ مراد حدیث یہ ہے کہ مسلمان کے نامہ اعمال میں پچاس طواف کا ثواب موجود ہونا چاہیے ، اب خواہ وہ پچاس طواف ایک ہی سفر میں کر لیے جائیں یا ساری زندگی میں مکمل کیے جائیں، دونوں صورتوں میں یہ فضیلت حاصل ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.