Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ساڑھے سات تولے سے کم صرف سونا ہو تو قربانی کا حکم؟
Question
ساڑھے سات تولے سے کم صرف سونا ہو تو قربانی کا حکم ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے پاس ساڑھے چار تولہ سونا ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں، کیا قربانی واجب ہے ؟ اسے میں کبھی کبھار پہن لیتی ہوں لیکن نیست یہ ہے کہ یہ میرے بچوں کے لیے ہے ، کیا میں ایسی صورت میں اس کی شرعی مالک ہوں ؟ جواب
Answer (beginning)
قربانی کے ایام میں جس شخص کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا ہو، یا سونا چاندی دونوں ہوں مگر نصاب سے کم ، لیکن ان کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچتی ہو، یا پھر حاجت اصلیہ سے زائد کرنسی یا ایسی اشیا ہوں جن کی قیمت ساتھ ملانے سے ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد بن جائے، تو بقیہ شرائط کی موجودگی میں اس پر قربانی واجب ہوتی ہے ، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر واقعی اس ساڑھے چار تولہ سونے کے علاوہ حاجت اصلیہ سے زائد کرنسی وغیرہ کوئی شے نہیں تو قربانی واجب نہیں ہوگی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.