Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
خیارِ شرط کی تعریف نیز اسکی مدّت اور اسباب
Question
خیار شرط کی تعریف نیز اسکی مدت اور اسباب دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ خرید و فروخت ( بیع و شراء ) کے معاملات میں "خیار " یعنی کسی چیز کو قبول کرنے یا رد کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے ۔ ان خیارات میں سے ”خیار شرط “ بھی ہے۔ اس کی تعریف کیا ہے ؟ اس کی مدت کتنی ہوتی ہے ؟ اور کن وجوہات یا اسباب کی بنیاد پر یہ خیار ختم یا ساقط ہو جاتا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
بعض اوقات خرید و فروخت کے وقت ایسا ہوتا ہے کہ فریقین میں سے کوئی ایک یا دونوں کسی چیز کو فوراً قبول یارد کرنے کی کیفیت میں نہیں ہوتے ۔ بائع یا مشتری کو مزید غور و فکر، مشورے یا کسی ماہر سے رائے لینے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ بعض اوقات بائع کو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی چیز ستے داموں فروخت نہ کر بیٹھے یا مشتری کو یہ خدشہ ہوتا ہے کہ وہ چیز خرید کر بعد میں نقصان نہ اٹھائے یا اُسے اُس چیز کی مکمل پہچان نہ ہو۔ ایسی صورت میں شریعت نے انہیں یہ گنجائش دی ہے کہ وہ عقد میں یہ شرط رکھ سکتے ہیں کہ مخصوص مدت کے اندر نہیں یہ اختیار حاصل ہو کہ چاہیں تو بیع منظور کر لیں ، ورنہ رد کر دیں ۔ یہ خیار شرط کہلاتا ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.