Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امام کے ایک طرف سلام پھیرنے کے بعد شریک ہونے والے کی نماز کا حکم
Question
امام کے ایک طرف سلام پھیرنے کے بعد شریک ہونے والے کی نماز کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کل مغرب کی نماز میں امام صاحب نے جب ایک طرف سلام پھیرا، تو میں نے اسی سلام کے دوران تکبیر تحریمہ کہہ کر امام صاحب کی اقتدا کرلی اور امام کے دونوں طرف سلام پھیرنے کے بعد نماز مکمل کرلی ، مجھے یہ جاننا ہے کہ کیا میری نماز ہو گئی یا نئے سرے سے دوبارہ پڑھنی ہوگی ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں آپ کو جماعت نہیں ملی اور آپ کی یہ نماز نہیں ہوئی ، لہذا آپ پر یہ نماز دوبارہ پڑھنا لازم ہے ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ امام کی اقتدا درست ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ مقتدی تکبیر تحریمہ کے بعد امام کے ساتھ نماز کے کسی نہ کسی جز میں لازماً شریک ہو، چونکہ صورت مسئولہ میں آپ امام کے ساتھ نماز کے کسی بھی جز میں شریک نہیں ہوئے کہ جب امام نے ایک طرف سلام پھیر دیا ، تو وہ نماز سے باہر ہو گیا ، امام کے نماز سے باہر ہونے کی وجہ سے آپ کی اقتدا درست نہ ہوئی اور جب امام کی اقتداء ہی فاسد ہوگئی، تو مقتدی کی نماز شروع ہی نہیں ہوئی، کیونکہ جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی کی نیت اور تنہا پڑھنے والے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.