Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قربانی کی کھال مسجد میں دے سکتے ہیں؟
- Fatwa no.
- 9362-FSD
- Issued
- 08 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ / 05 جون 2025ء
Question
قربانی کی کھال مسجد میں دے سکتے ہیں ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا قربانی کی کھال مسجد میں دے سکتے ہیں ؟ بعض لوگوں سے سنا ہے کہ قربانی کی کھال صرف مدرسہ میں لگ سکتی ہے ، مسجد میں نہیں ۔ برائے کرم شرعی رہنمائی فرما دیجئے ۔ جواب
Answer (beginning)
قربانی کی کھال ہر نیک، جائز اور ثواب والے کام میں خرچ کی جا سکتی ہے اور جس طرح مدرسہ کی ضروریات میں خرچ کرنا ، کارِ ثواب ہے، یونہی مسجد کی ضروریات و اخراجات میں خرچ کرنا بھی ثواب کا کام ہے ، لہذا قر بانی کی کھال مسجد کے جملہ مصارف کے لیے دینا بلاشبہ جائز ہے ، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔ قربانی کے جانور کے گوشت و کھال وغیرہ کے متعلق حدیث پاک میں ہے : ”فکلواوادخروا واتجروا“ ترجمہ : تم اسے کھاؤ، جمع رکھو اور ثواب کے کام میں خرچ کرو ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.