Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قربانی کرنے کی بجائے کسی غریب کی مدد کرنا بہتر نہیں؟ ایک اعتراض کا جواب
Question
قربانی کرنے کی بجائے کسی غریب کی مدد کرنا بہتر نہیں؟ ایک اعتراض کا جواب دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بقرہ عید کے موقع پر بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ قربانی میں جانور خریدنے میں اتنا خرچہ ہو جاتا ہے ۔ جانور خرید کر اس کو ذبح کر کے اتنا فائدہ نہیں ، جتنا فائدہ غریب کی مدد کرنے میں ہے ۔ یہی رقم اگر کسی غریب آدمی کو دیدی جائے تو اس کی اچھی مالی مدد ہو سکتی ہے ، اس کے گھر کا چولہا جل سکتا ہے ، غریب کی بیٹی کی شادی کا انتظام ہوسکتا ہے ، وہ غریب شخص کرایہ کے گھر سے نکل کر اچھا گھر خرید سکتا ہے ، کچھ چھوٹا موٹا سا اپنا کام کاج شروع کر کے دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ذلت سے بچ سکتا ہے ، لہذا غربت کے حالات کے پیش نظر قربانی کیلئے اتنے مہنگے مہنگے جانوروں کو خریدنے کے بجائے غریبوں کی مالی مدد کی جائے ، اور جتنی رقم سے جانور خرید نا ہو، اتنی رقم اپنے کسی غریب رشتے دار شخص کو دے دیں تو یہی قربانی ہو جائے گی ۔ کیا یہ کہنا درست ہے اور اس طرح قربانی ہو جائے گی ؟ جواب
Answer (beginning)
قربانی کے دنوں میں انسان کا کوئی عمل اللہ عزوجل کے نزدیک قربانی کرنے سے زیادہ محبوب نہیں ہوتا ، اور قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی مقام قبولیت حاصل کر لیتا ہے اور قربانی کے جانور کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی قربانی کرنے والے کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔ یہ اولا کچھ قربانی کی فضیلت بیان ہوئی ۔ جہاں تک قربانی کے بجائے غریب کی مدد کرنے کی بات ہے ، تو قربانی کے بدلے جتنا بھی صدقہ وخیرات کر دیا جائے ، یہ کسی صورت قربانی کے قائم مقام نہیں ہو سکتا، لہذا قربانی کے بجائے غریب کی مدد کرنے کو ہی قربانی قرار دینا، دراصل شرعی احکامات میں مداخلت کرنا ہے جو کہ بہت بڑا گناہ ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.