Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قربانی سے پہلے ہی جانور ذبح کر دیا تو اس کے گوشت اور دوبارہ قربانی کا حکم؟

Question

قربانی سے پہلے ہی جانور ذبح کر دیا تو اس کے گوشت اور دوبارہ قربانی کا حکم ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں اور میرے بھائی دونوں نے مل کر قربانی کے لیے ایک گائے خریدی ۔ لیکن چند دنوں بعد وہ گائے اتنی بیمار، کمزور اور لاغر ہوگئی کہ اس سے کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا ، جس وجہ سے ہمیں خدشہ تھا کہ کہیں مر نہ جائے ، تو ہم نے وہ گائے ذبح کر دی اور اس کا سارا گوشت بانٹ دیا۔ شرعی رہنمائی فرما دیں کہ اب ہمارے لیے کیا حکم شرعی ہے ؟ کیا ہم دوبارہ قربانی کریں یا ہم پر مزید قربانی کرنا لازم نہیں ہے ؟ نوٹ : سائل سے صاحب نصاب ہونے سے متعلق وضاحت کی ہے ، جس کے مطابق دونوں بھائی صاحب نصاب نہیں بنتے یعنی دونوں بھائیوں کی ملکیت میں حاجت اصلیہ سے زائد ساڑھے باون تولے چاندی، یا حاجت اصلیہ سے زائد اتنی مالیت کا اور بھی کوئی مال نہیں ہے ۔ دونوں نے کچھ سالوں سے قربانی کے لیے تھوڑی تھوڑی رقم کے جوڑی ہوئی تھی، جس سے جانور خریدا تھا، باقی وہ دونوں صاحب نصاب نہیں ہیں ۔ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں آپ دونوں بھائیوں پر مزید قربانی کرنا لازم نہیں ہے، کیونکہ جو شخص صاحب نصاب نہ ہو یعنی جس کے پاس حاجت اصلیہ اور قرض سے زائد ساڑھے سات تولے سونا، یا کم از کم ساڑھے باون تولے چاندی، یا حاجت سے زائد اتنی چاندی کی مالیت کے برابر رقم ، یا کوئی بھی چیز نہ ہو، ایسا شخص شرعی فقیر کہلاتا ہے اور اس پر قربانی لازم نہیں ہوتی ۔ اگر ایسا شخص قربانی لازم نہ ہونے کے باوجود قربانی کے لیے جانور خرید لے ، تو اب اس پر خاص اسی جانور کی قربانی کرنا لازم ہو جاتا ہے اور اگر وہ جانور مر جائے ، تو فقیر شرعی پر مزید کسی جانور کی قربانی لازم نہیں ہوتی ، ہاں اگر بیماری وغیرہ کسی وجہ سے جانور کو ذبح کر…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.