Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گوشت، جگر، تلی اور دل کے خون کا حکم
Question
گوشت ، جگر ، تلی اور دل کے خون کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں : حلال جانور کے سب اجزاء حلال ہیں مگر بعض کہ حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (10) جگر ( یعنی کلیجی) کا خون (11) تلی کا خون (12) گوشت کا خون که بعد ذبح گوشت میں سے نکلتا ہے (13) دل کا خون ۔ ۔ الخ " (فتاوی رضویہ ج ۲۰ ص ۲۴۰، ۲۳۱) یہاں چار طرح کے خون کا تذکرہ کیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا مکروہ تحریمی ہیں یا تنزیہی ؟ جواب
Answer (beginning)
جانور کو ذبح کرنے پر رگوں سے جو دم مسفوح (بہنے والا خون ) نکلتا ہے وہ قطعا یقینا نا پاک اور حرام ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ لیکن ذبح سے دم مسفوح نکل جانے کے بعد بھی جانور کے جسم میں چار طرح کا خون رہتا ہے : (1) وہ خون جو گوشت میں رہ جاتا ہے اور بعد میں گوشت سے نکلتا ہے ۔ (2) جگر کیجی) کا خون ۔ (3) تلی کا خون (4) اور دل سے نکلنے والا خون ۔ ان چار طرح کے خونوں کے متعلق درج ذیل دو سوال قائم ہوتے ہیں : (1) کیا یہ خون بھی دم مسفوح کی طرح ناپاک ہیں یا ان کا حکم جدا ہے ؟ (2) کیا ان کو کھانا جائز ہے یا نہیں ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.