Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ذبح میں تین بار تکبیر کہنے اور باوضو ہونے کی شرعی حیثیت

Fatwa no.
13239-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا جانور کو ذبح کرتے وقت تین مرتبہ تکبیر کہنا ضروری ہے؟ مزید یہ بھی رہنمائی فرمادیں کہ کیاذ بح کرنے والے شخص کا باوضو ہو ناضروری ہے ؟

Answer (beginning)

جانور حلال ہونے کے لیے بوقت ذبیح اللہ عزوجل کا نام لینا ضروری ہے، تین مرتبہ تکبیر کہنا شرط نہیں۔ پس اگر کسی نے جان بوجھ کر اللہ عزوجل کا نام ترک کیا تو وہ جانور حلال نہیں ہو گا۔ نیز بے وضو شخص کا ذبیحہ بھی شرعاً حلال ہے، بشر طیکہ ذبح درست ہو اور حرمت کی کوئی اور وجہ نہ پائی جاتی ہو۔ بوقت ذبیح اللہ عزوجل کا نام لینا ضروری ہے۔ جیسا کہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: ”(و تشترط) التسمية من الذابح (حال الذبح)۔ یعنی ذبح کرنے والے شخص کے لیے جانور ذبح کرتے ہوئے اللہ عزوجل کا نام ذکر کرنا شرط ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.