Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا دو بیٹیوں کا عقیہ ایک بکرے میں کرنا جائز ہے؟
- Fatwa no.
- 13226-Nor
- Issued
- 28 جمادی الثانی 1445ھ /11 جنوری2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک ہی بکرا اگر دو بیٹیوں کی طرف سے عقیقے میں قربان کیا جائے، تو کیا عقیقہ ہو جائے گا؟
Answer (beginning)
عقیقہ کے احکام چونکہ قربانی کے احکام ہی کی مثل ہیں، اور قربانی میں چھوٹا جانور (یعنی بکرا، بکری) دو یادو سے زیادہ افراد کی طرف سے قربان نہیں ہو سکتا، چھوٹے جانور میں حصے نہیں ہو سکتے ، بالکل اسی طرح عقیقے کے بکرے میں بھی ایک سے زیادہ حصے نہیں ہو سکتے ، لہذا اگر کسی شخص نے ایک ہی بکرے سے اپنی دو بیٹیوں کا عقیقہ کیا، تو اس صورت میں دونوں بیٹیوں میں سے کسی ایک کی بھی عقیقے کی سنت ادا نہ ہوئی۔ ایک بکری کی قربانی ایک شخص ہی کی طرف سے ہو سکتی ہے۔ چنانچہ مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے: ”الغنم الواحد لا یکفی عن اثنین فصاعدا“ یعنی دو اور دو سے زیادہ افراد کی طرف سے ایک بکری کفایت نہیں کرتی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.