Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا نامحرم عورت کے جنازے کو کندھا دینا جائز ہے؟

Fatwa no.
13067-Nor
Issued
10 ربیع الثانی 1445ھ / 26اکتوبر 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا مرد نامحرم عورت کے جنازے کو کندھادے سکتا ہے؟

Answer (beginning)

جی ہاں ! مرد نامحرم عورت کے جنازے کو کندھا دے سکتا ہے، اس میں کوئی حرج والی بات نہیں کہ جنازہ خواہ مرد کا ہو یا عورت کا، بہر صورت جنازے کو کندھا دینا باعث اجر و ثواب ہے ، اس کے بہت فضائل احادیث مبارکہ میں بیان کیے گئے ہیں۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ مرد کے لیے کسی نامحرم عورت کی میت کو دیکھنے اور اسے چھونے کی ممانعت ہے کہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق مرد کا اجنبیہ عورت کو بلا اجازت شرعی چھونا، جائز نہیں، بلکہ فی زمانہ فتنہ کی وجہ سے اجنبیہ کے چہرے کو دیکھنے کی بھی ممانعت کی جائے گی۔ البتہ شوہر اپنی بیوی کی میت کو دیکھ سکتا ہے، مگر بلا حائل بیوی کے بدن کو ہاتھ لگا نا شوہر کے لیے بھی ناجائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.