Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مریض کا بیٹھ کر قضائے عمری پڑھنا کیسا؟

Fatwa no.
13534-Nor
Issued
22 ربیع الاول 1446ھ / 27 ستمبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مریض اگر عذر کی بنا پر قضائے عمری بیٹھ کر ادا کرے، تو کیا صحت یاب ہونے پر وہ قضا نمازیں اُسے پھر سے ادا کرنا ہوں گی ؟

Answer (beginning)

قضا نمازوں کی ادائیگی میں بھی قیام فرض ہے لہذا بغیر عذر شرعی کے قضا نماز کو بیٹھ کر ادا کیا تو وہ قضا نماز ادا نہیں ہو گی۔ البتہ اگر قضا نماز کی ادائیگی کے وقت کوئی شرعی عذر پایا جائے مثلاً مریض قیام پر قادر ہی نہ ہو ، تو قضا نماز کی ادائیگی کے وقت اس عذر کا اعتبار ہو گا اور حالت عذر میں بقدر استطاعت ہی قضا نماز کو ادا کیا جائے گا، پھر صحت کے بعد اُس نماز کا اعادہ بھی نہیں ہو گا۔ پوچھی گئی صورت میں حقیقی عذر پائے جانے کی بنا پر قضائے عمری درست ادا ہو گئی، صحت یاب ہونے پر اُن قضا نمازوں کا اعادہ لازم نہیں ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.