Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ملازم کو زکوۃ دینا تاکہ وہ اسی کے پاس کام کرتا رہے، کیسا؟

Fatwa no.
13382-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری کا سمیٹکس کی دوکان ہے اور میں صاحب نصاب بھی ہوں، اس دوکان میں میرا ایک ملازم ہے جس کو میں ماہانہ تنخواہ دیتا ہوں، یہ ملازم مالی حوالے سے کمزور ہے ، اس لئے میں اس کو تنخواہ سے ہٹ کر کچھ رقم وقتا فوقتا بطور ایڈوانس زکاۃ بھی دے دیتا ہوں، نیت میری یہی ہوتی ہے کہ میرا فرض ادا ہو جائے ، اس کی مالی امداد ہو جائے اور یہ میری دوکان چھوڑ کر بھی نہ جائے اور یہیں کام کرتا رہے۔ کرنا ہے کہ کیا اس طرح کی نیت کرنے سے میری زکاۃ ادا ہو جائے گی ؟

Answer (beginning)

معلوم زکاۃ کی ادائیگی درست ہونے کے لئے نیت شرط ہے کہ بلانیت زکاۃ ادا نہیں ہوتی، زکوۃ دیتے وقت نیت یہ ہو کہ اللہ رب العالمین کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اس کی طرف سے مقرر کئے گئے فرض کی ادائیگی کر رہا ہوں اور اس کے ساتھ کوئی ایسی نیت شامل نہ ہو ، جو ادائیگی زکاۃ کے منافی ہو، لہذا جب آپ نے اپنے ملازم شرعی فقیر مستحق زکاۃ کو اس کی اجرت و تنخواہ سے ہٹ کر زکاۃ کی نیت سے زکاۃ کی رقم دی، تو زکاۃ ادا ہو گئی اور فرض ذمہ سے ساقط ہو گیا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.