Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسافر کسی شہر میں ایک ماہ کا قیام کرے تو نماز قصر کرے گا؟
- Fatwa no.
- 13495-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اپنے شہر سے 200 کلو میٹر کی دوری پر واقع ایک دوسرے شہر میں ایک کام کی غرض سے جارہا ہے، جہاں اُس کا قیام تقریباً ایک مہینے کا ہو گا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ زید وہاں کام والے شہر میں قصر نماز پڑھے گا یا پوری نماز ادا کرے گا؟
Answer (beginning)
شرعی مسافر کسی شہر میں پندرہ دن یا اس سے زائد قیام کی نیت کرلے تو وہ مقیم ہو جائے گا اور وطن اقامت میں نماز پوری ادا کرنا ہوگی، لہذا پوچھی گئی صورت میں زید کام والے شہر میں پوری نماز ہی ادا کرے گا۔ کسی شہر میں پندرہ دن یا اس سے زائد کی نیت کر لینے سے مسافر مقیم ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری وغیرہ کتب فقہیہ میں مذکور ہے: ” وطن سفر وقد سمي وطن إقامة وهو البلد الذي ينوي المسافر الاقامة فيه خمسة عشر يوما أو أكثر“ یعنی وطن سفر ، اسی کو وطن اقامت بھی کہا جاتا ہے یہ وہ شہر ہے جہاں مسافر پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت کرے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الصلاة، ج 01، ص142، مطبوعہ پشاور) کرے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.