Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا دورانِ تلاوت مدِ منفصل کو ترک کردینا جائز ہے ؟
- Fatwa no.
- 13455-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے فیضان تجوید میں پڑھا ہے کہ مد منفصل کو مد جائز بھی کہا جاتا ہے۔ اب میر اسوال یہ ہے کہ کیا دورانِ تلاوت مد منفصل کو ترک کر دینا جائز ہے ؟
Answer (beginning)
مد منفصل کو مد جائز بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں مد کرنا، جائز ہوتا ہے لازم وضروری نہیں، اور یہ مد جائز بھی اُسی وقت ہوتا ہے کہ جب دورانِ قراءت دونوں کلموں کو ملا کر پڑھا جائے۔ البتہ اگر کوئی پہلے کلے پر وقف کر لے تو اب اصلامد نہیں ہو گا، مثلاً قاری "وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا " والی آیت مبارک میں اگر "قالوا" پر وقف کرلے ، تو اس صورت میں اصلاآمد نہیں ہو گا۔ اس تفصیل سے واضح ہوا کہ دورانِ تلاوت مد منفصل کو ترک کر دینا شرعاً جائز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.