Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تراویح میں حافظ صاحب کا مدات اور غنے کا خیال نہ رکھنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 13353-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی حافظ صاحب تراویح میں اس انداز سے قرآن پڑھے کہ ہر حرف کی پہچان بھی ہوتی ہو اور اُن کا پڑھنا سمجھ میں بھی آتا ہو، مگر وہ حافظ صاحب مدات اور غنے وغیرہ کی بالکل بھی رعایت نہ کرتے ہوں، تو اس انداز سے قرآن پڑھنے میں شریعت ہماری کیار ہنمائی کرتی ہے؟
Answer (beginning)
قرآن پاک کو تجوید کے ضروری قواعد کی رعایت کرتے ہوئے درست تلفظ سے پڑھناضروری ہے، بالخصوص مدِ متصل اور مد لازم کی رعایت کرنا تو بالا جماع واجب ہے ، جان بوجھ کر اس میں کو تاہی کا ارتکاب کرنا، ناجائز و گناہ ہے۔ یو نہی دوران قراءت تشدید و تخفیف کا خیال بھی رکھا جائے کہ تشدید ترک کرنے کی صورت میں ایک حرف کو چھوڑنا لازم آئے گا جس سے قرآنی حروف میں تبدیلی واقع ہو گی، جبکہ قرآن پاک کے کسی ایک حرف میں بھی قصد اتبدیلی کرنا سخت ناجائز و حرام اور گناہ کا کام ہے ، لیکن اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.