Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پانی میں مٹی اور ریت بھی ہو، تو وضو و غسل ہو جائے گا؟

Fatwa no.
13456-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں آج کل لائن میں جو پانی آرہا ہے اُس پانی میں تھوڑی سی مٹی اور ریت بھی ساتھ میں آرہی ہے، تو کیا اُس پانی سے وضو و غسل ہو جائے گا؟

Answer (beginning)

جی ہاں ! پوچھی گئی صورت میں اس پانی سے وضو و غسل ہو جائے گا۔ چنانچہ فتح القدیر میں ہے: لا بأس بالوضوء بماء السیل مختلط بالطين إن كانت رقة الماء غالبة، فإن كان الطين غالبا فلا ۔ “ یعنی سیلاب کا پانی جس میں کیچڑ کی آمیزش ہو اُس سے وضو جائز ہے بشر طیکہ اس میں پانی کی رقت غالب ہو اور اگر کیچڑ غالب ہو تو جائز نہیں۔ (فتح القدير على الهداية، كتاب الطهارات، ج 01، ص 72، دار الفکر، لبنان) بدائع الصنائع میں ہے: ”لو تغير الماء المطلق بالطين أو بالتراب،أوبالجص،أوبالنورةأوبوقوع الأوراق، أو الثمار فيه، أو بطول المكث يجوز التوضؤ به؛ لأنه لم يزل عنه اسم الماء، وبقي معناه أيضا مع مافيه من الضرورة الظاهرة لتعذر…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.