Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قسم کھا کر قسم واپس لینا کیسا؟

Fatwa no.
13448-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص قسم کھانے کے بعد فوراً اپنی اس قسم کو واپس لے لے، تو کیا اس صورت میں بھی اس قسم کو پورا کر نالازم ہو گا ؟

Answer (beginning)

جی ہاں ! پوچھی گئی صورت میں بھی اس قسم کو پورا کرنا لازم ہو گا، کیونکہ قسم منعقد ہونے کے بعد اس سے رجوع نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ بحر الرائق میں ہے: ”لا رجوع عن الیمین ۔ “ یعنی قسم سے رجوع نہیں ہو سکتا۔ (البحرالرائق شرح کنز الدقائق، كتاب الطلاق، ج 3، ص361، دار الكتاب الإسلامي) مجمع الانہر میں ہے: "لا يصح الرجوع عن الیمین ۔ “ یعنی قسم سے رجوع درست نہیں۔ (مجمع الأنصر في شرح ملتقى الأبحر، باب الخلع، ج 01، ص763، دار إحياء التراث العربي) وَ اللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.