Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قربانی کا گوشت ریسٹورنٹ میں استعمال کرنا کیسا؟

Fatwa no.
13406-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کاریسٹورنٹ ہے جس میں وہ مختلف کھانے بنا کر فروخت کرتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ زید اپنی قربانی کے گوشت کو اُسی ریسٹورنٹ میں بننے والے کھانوں میں استعمال کر کے اُسے آمدنی کا ذریعہ بنائے ؟ شریعت اس بارے میں ہماری کیار ہنمائی کرتی ہے؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں زید کا قربانی کے گوشت کو اپنے ریسٹورنٹ کے کھانوں میں استعمال کر کے فروخت کرنا، شرعاً جائز نہیں۔ تفصیل اس مسئلے کی یہ ہے کہ قربانی کے جانور سے چونکہ قربت کی نیت کی گئی ہے لہذا اس کے کسی بھی جزء سے تمول جائز نہیں۔ یہاں تمول سے مراد اپنے ذاتی فائدے کے لیے یا پھر اپنے اہل و عیال و اغنیاء کے لیے قربانی کے کسی بھی جزء کو ایسی کسی چیز سے بدل دینا ہے کہ جو استعمال کرنے سے خرچ ہو جائے اور اس سے مالی فائدہ حاصل کیا جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.