Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا بیٹھے بیٹھے بھی سجدہ تلاوت کرسکتے ہیں ؟

Fatwa no.
13310-Nor
Issued
10 رمضان المبارک 1445ھ / 21 مارچ 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سجدہ تلاوت کھڑے ہو کر کرنا ہی ضروری ہے ؟ یا پھر بیٹھے بیٹھے بھی سجدہ تلاوت کر سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

کھڑے ہو کر سجدہ تلاوت کے لیے جانا اور پھر سجدے کے بعد دوبارہ کھڑا ہونا، یہ دونوں ہی قیام مستحب ہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص سجدہ تلاوت کی نیت سے بیٹھے بیٹھے بھی سجدے میں چلے جاتا ہے تو اس کا سجدہ تلاوت تو ادا ہو جائے گا، لیکن اس صورت میں وہ شخص سجدہ تلاوت کے اول و آخر دونوں ہی مستحب قیام کے ثواب سے ضرور محروم رہے گا۔ سجدہ تلاوت کے اول و آخر دونوں قیام مستحب ہیں۔ جیسا کہ غنیہ المستملی وغیرہ کتب فقہیہ میں ہے: ”ویستحب أن يقوم لها فيسجد من القيام لما فيه من زيادة معنى الخرور و فى الظهيرية انه يستحب القيام بعد الرفع منھا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.