Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نابالغ منت مان کر بھول جائے تو کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
12997-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے نابالغی کی حالت میں نوافل پڑھنے کی منت مانی تھی، لیکن کتنے نوافل پڑھنے کی منت مانی تھی؟ یہ زید کو یاد نہیں۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ زید کتنے نوافل پڑھے کہ وہ اس منت سے بر کی الذمہ ہو جائے؟

Answer (beginning)

منت لازم ہونے کی شرائط میں سے ایک بنیادی شرط یہ بھی ہے کہ منت ماننے والا عاقل و بالغ ہو ، نابالغ منت ماننے کا اہل ہی نہیں کہ وہ شرعی احکام کا مکلف نہیں ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں زید نے نابالغی کی حالت میں جو منت مانی تھی اس کی وجہ سے زید پر کوئی چیز لازم نہیں ہے۔ منت درست واقع ہونے کے لیے عاقل و بالغ ہو نا ضروری ہے۔ جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے: ” أما الذي يتعلق بالناذر فشرائط الأهلية: (منها) العقل - (ومنها) البلوغ، فلا يصح نذر المجنون والصبي الذي لا يعقل، لأن حكم النذر وجوب المنذوربه، وهما ليسا من أهل الوجوب، وكذا الصبي العاقل؛ لأنه ليس من أهل وجوب الشرائع، ألا ترى أنه لا يجب عليهما شيء من…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.