Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
خرید و فروخت میں یہ شرط لگانا قسط تین ماہ تک ادا نہ کی تو سودا کینسل ہوجائے گا
- Fatwa no.
- 12853-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم فلیٹس کی بکنگ کرتے اور فلیٹس بنا کر بیچتے ہیں۔ سودا کرتے وقت ہم گاہک سے یہ طے کر لیتے ہیں کہ اگر قسط تین ماہ تک ادانہ کی تو یہ سودا کینسل ہو جائے گا اور جتنی رقم خریدار نے جمع کروائی ہو گی وہ بھی واپس کر دی جائے گی۔ اس صورت کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
استصناع ( یعنی آرڈر پر کوئی چیز بنوانا ) بیع ہی ہے اور بیع میں ایسی شرط لگانا جو عقد کے تقاضے کے خلاف ہو اور اس میں بیچنے یا خریدنے والے کا فائدہ ہو، تو ایسی شرط بیع کو فاسد کر دیتی ہے۔ پوچھی گئی صورت میں فلیٹوں کی خرید و فروخت میں جو شرط لگائی جارہی ہے کہ اگر قسط تین ماہ تک ادا نہ کی، تو سو داختم ہو جائے گا یہ شرط بھی عقد کے تقاضے کے خلاف ہے کیونکہ اس میں بیچنے والے کا نفع ہے، اس شرط فاسد کی وجہ سے بیع فاسد قرار پائے گی۔ فلیٹوں کی بیع اگر درست طریقہ کار کے مطابق کرنا چاہتے ہیں، تو مذکورہ شرط فاسد کو ختم کر کے معاہدہ کرنا ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.