Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غسل فرض ہونے کی حالت میں جسم کا کوئی حصہ پانی میں پڑجانے پر پانی کے مستعمل ہونے کا حکم
- Fatwa no.
- 12887-Nor
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جس پر غسل فرض ہو ، کیا اس کے جسم کا کوئی سا بھی بے دھلا حصہ پانی میں پڑنے سے وہ پانی مستعمل ہو جائے گا یا پھر اعضائے وضو میں سے کوئی عضو پانی میں پڑنے سے وہ پانی مستعمل ہو گا؟ اس میں درست مسئلہ کیا ہے ؟رہنمائی فرمادیں۔ جس
Answer (beginning)
غسل فرض ہو، چونکہ اس کے پورے جسم پر ہی حدث طاری ہوتا ہے لہذا بے غسلے شخص کے جسم کا کوئی بھی بے دھلا حصہ قلیل پانی مثلاً پانی سے بھری ہوئی بالٹی یا لوٹے وغیرہ میں پڑ جائے تو وہ پانی مستعمل ہو جائے گا اور وضو و غسل کے قابل نہیں رہے گا۔ یادر ہے کہ مستعمل پانی سے مراد وہ پانی ہے جسے قربت کے ارادے سے یا پھر حدث دور کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہو، لہذا بدن کے جس حصہ کے ساتھ حدث کا تعلق ہوتا ہے وہ حصہ جب بغیر دھوئے قلیل پانی میں پڑے گا تو اتنے حصہ سے حدث دور ہو گا اور وہ پانی مستعمل ہو جائے گا، اس سے وضو یا غسل جائز نہ ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.