Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دورانِ عدت جنازے کے ساتھ تھوڑی دور جانے تک کیا عدت ٹوٹ جائے گی؟

Fatwa no.
12883-Nor

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ابھی کچھ دن قبل میرے ماموں کا انتقال ہوا، جب جنازہ گھر سے باہر لے جایا گیا تو ان کی بیوہ روتی ہوئی جنازے کے ساتھ ہی گھر سے باہر نکل گئیں اور تھوڑی دور تک جنازے کے ساتھ چلتی رہیں پھر انہیں گھر واپس لایا گیا۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ دورانِ عدت بیوہ کا جنازے کے ساتھ یوں گھر سے باہر نکلنا جائز تھا؟ نیز کیا گھر سے نکلنے کی بنا پر ان کی عدت ٹوٹ گئی ؟ اور اگر عدت ٹوٹ گئی ہے تو اب اس کا کفارہ کیا ہے ؟

Answer (beginning)

شوہر نے جس مکان میں بیوی کو رکھا ہوا تھا اس کے انتقال پر اسی مکان میں عدت گزار ناعورت پر واجب ہوتا ہے ، بلا ضرورت شرعیہ اس مکان سے نکلنا نا جائز و گناہ ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں بیوہ دورانِ عدت بلا ضرورت شرعیہ شوہر کے مکان سے نکلنے کے سبب گنہگار ہوئی۔ اس گناہ سے تو بہ کرے اور اپنی بقیہ عدت شوہر کے مکان میں ہی پوری کرے۔ البتہ جہاں تک عدت ٹوٹنے کا سوال ہے تو یہ یادر ہے کہ اگر کوئی عورت دورانِ عدت بلاضرورت شرعیہ شوہر کے گھر سے نکل بھی جائے یا پھر عورت ایسا کام کرلے جو عدت میں کرنے کی اجازت نہیں ، تب بھی اس کی عدت باقی رہتی ہے جو کہ شریعت کے مقرر کردہ وقت پر ہی ختم ہوتی ہے ، لہذا پوچھی گئی صورت…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.