Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا دو تھن والے جانور کی قربانی جائز ہے؟
- Fatwa no.
- 12875-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے ایک بھینس میں قربانی کا حصہ ڈالا ہے جس کے قدرتی طور پر دو ہی تھن ہیں ، ایسا نہیں ہے کہ اس کے بقیہ دو تھن کٹے ہوئے ہوں بلکہ پیدائشی طور پر اس بھینس کے دو ہی تھن ہیں۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس دو تھن والی بھینس کی قربانی ہو جائے گی ؟
Answer (beginning)
جی نہیں ! دو تھن والی بھینس کی قربانی جائز نہیں۔ مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ قربانی کے جانور کا ہر اس عیب سے پاک ہوناضروری ہے جو قربانی ہونے میں رکاوٹ بنے۔ فقہائے کرام نے جن عیوب کو مانع قربانی شمار کیا ہے انہی میں سے ایک عیب یہ بھی ہے کہ چھوٹے جانور کا ایک تھن جبکہ بڑے جانور کے دو تھن پیدائشی طور پر نہ ہوں یا کٹے ہوئے ہوں یا خشک ہو چکے ہوں، بہر صورت ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں، لہذا بیان کردہ صورت میں اس بھینس کی قربانی جائز نہیں۔ بڑے جانور کے پیدائشی طور پر دو تھن نہ ہوں تو اس کی قربانی جائز نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.