Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

رضاعی بھتیجی سے نکاح کرنا کیسا ؟

Fatwa no.
12874-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ فاطمہ نے احمد کو دودھ پلایا، پھر فاطمہ کا شوہر فوت ہو گیا تو فاطمہ نے دوسرا نکاح کر لیا۔ جس سے ایک بیٹا علی پیدا ہوا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا علی کا نکاح احمد کی بیٹی زینب سے ہو سکتا ہے؟

Answer (beginning)

جی نہیں ! پوچھی گئی صورت میں (علی) کا نکاح احمد کی بیٹی (زینب) سے نہیں ہو سکتا، یہ نکاح ناجائز و حرام ہے۔ مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ احمد دودھ کے رشتے سے علی کا رضاعی بھائی لگا تو یوں احمد کی بیٹی زینب، علی کی رضاعی بھتیجی بنی۔ جس طرح سگی بھتیجی سے نکاح حرام ہوتا ہے اسی طرح دودھ کے رشتے سے بھتیجی کا نکاح بھی حرام ہے کہ رضاعی رشتے میں نسبی رشتے کی طرح حرمت ہے، لہذا زینب، علی کے لیے محرم بن گئی، اس سے نکاح ناجائز و حرام ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.