Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عشاء کی نماز قضا ہوجائے تو کیا فرض کے ساتھ وتر کی بھی قضا کرنا ضروری ہے؟

Fatwa no.
12871-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی کی نماز عشاء قضاء ہو جائے ، تو اب کیا عشاء کے فرضوں کے ساتھ ساتھ اسے وتر کی قضا کرنا بھی ضروری ہے؟

Answer (beginning)

جی ہاں ! پوچھی گئی صورت میں وہ شخص عشاء کے فرضوں کے ساتھ ساتھ نماز وتر کی بھی قضا کرے گا، کیونکہ نمازی وتر واجب ہے اگر اسے وقت میں ادا نہ کیا تو بعد میں اس کی قضا کرنا واجب ہے۔ چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے: ” و يجب القضاء بترکه ناسيا أو عامداوإن طالت المدة ولا يجوز بدون نية الوتر، كذا في الكفاية “ یعنی اگر کسی شخص نے بھولے سے یا جان بوجھ کر وتر کی نماز چھوڑ دی تو اس پر قضاء اجب ہے اگرچہ طویل عرصہ گزر گیا ہو اور یہ نماز وتر کی نیت کے بغیر جائز نہیں، جیسا کہ کفایہ میں مذکور ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.