Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مکہ مکرمہ میں بیس دن قیام کا ارادہ ہو مگر دس دن پر جعرانہ سے عمرہ کرنے کا بھی ارادہ ہو تو حاجی مسافر ہوگا یا مقیم؟

Fatwa no.
12870-Nor

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص شرعی سفر کرتے ہوئے مکہ مکرمہ میں ایام حج سے قبل 20 دن کے ارادے سے داخل ہو، لیکن ساتھ ہی اس کی یہ نیت بھی ہو کہ میں 10 دن بعد عمرے کا احرام باندھنے مکہ مکرمہ سے باہر مقام جعرانہ جاؤں گا۔ تو کیا اس کا یہ سفر دو حصوں میں تقسیم ہو گا ؟ اور وہ شخص مکہ مکرمہ میں پوری نماز پڑھے گا یا قصر کرے گا؟؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اُس شخص کی نیت مسلسل پندرہ راتیں مکہ مکرمہ میں قیام کی ہے اور اقامت میں رات ہی کا اعتبار ہوتا ہے، لہذاوہ شخص مکہ مکرمہ پہنچتے ہی مقیم ہو جائے گا، اس کی اقامت کی نیت درست ہو گی۔ دس دن بعد جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھنے کے ارادے سے بھی اس کی اقامت باطل نہیں ہوگی اور نہ ہی اس کا یہ سفر دو حصوں میں تقسیم ہوگا کیونکہ یہ مسافت 92 کلو میٹر سے کم ہے۔ البتہ اگر وہ شخص دن ہی دن میں مکہ مکرمہ سے 92 کلو میٹر یا اس سے دور کسی مسافت پر چلا جائے تو ضرور اس کی اقامت باطل ہو جائے گی اور وہ مسافر ہو جائے گا لیکن ہماری صورت میں ایسا نہیں ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.