Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
روزوں سے قسم کا کفارہ ادا کرنے کی صورت میں اگر بعد میں کبھی مال آ گیا تو کیا دوبارہ سے قسم کا کفارہ دینا ہوگا؟
- Fatwa no.
- 12860-Nor
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قسم کے کفارے میں ہے کہ جو غریب شخص مساکین کو کھانا کھلانے یا انہیں کپڑا پہنانے پر قدرت نہ رکھتا ہو تو کیا وہ روزوں سے قسم کا کفارہ ادا کر سکتا ہے ؟ اگر کر سکتا ہے تو روزوں کے بعد پھر اگر اس کے پاس کبھی مال آجائے تو کیا اب اسے نئے سرے سے دوبارہ قسم کا کفارہ ادا کر ناہو گا؟
Answer (beginning)
جو شخص مال کے ذریعے قسم کے کفارے کی ادائیگی سے عاجز ہو جائے تو اب اس کے لیے حکم شرع یہ ہے کہ وہ بلا ناغہ لگاتار تین روزے رکھے ، اس صورت میں بھی اُس کی قسم کا کفارہ ادا ہو جائے گا۔ البتہ روزوں سے کفارے کی درست ادائیگی کے لیے یہ ضروری ہے کہ اُس کا یہ عجز روزے پورے ہونے تک باقی رہے، لہذا اگر تیسر اروزہ مکمل ہونے سے پہلے پہلے وہ شخص مال پر قادر ہو گیا تو اب اُس کے وہ روزے ناکافی ہوں گے۔ اور اگر تین روزے رکھ لینے کے بعد استطاعت ہو گئی تو دوبارہ سے کفارہ دینے کی حاجت نہیں ہو گی۔ قسم توڑنے والا مال سے کفارہ ادا کرنے سے عاجز ہو تو لگا تار تین روزے رکھے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.