Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عورت بخوشی حق مہر کی رقم معاف کردے، تو کیا اب اس رقم کا دوبارہ مطالبہ کرسکتی ہے؟
- Fatwa no.
- 12854-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی عورت اپنی خوشی سے صراحتاً اپنے حق مہر کی رقم شوہر کو معاف کر دے اور شوہر انکار بھی نہ کرے، تو اب بعد میں کسی بھی وجہ سے وہ دوبارہ شوہر سے حق مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے؟
Answer (beginning)
عورت جب اپنی رضامندی و خوشی سے اپنا حق مہر معاف کر دے تو وہ معاف ہو جائے گا بشر طیکہ شوہر نے انکار نہ کیا ہو ، لہذا پوچھی گئی صورت میں وہ عورت شوہر سے دوبارہ حق مہر کی رقم کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ یہ جواب سوال کے تناظر میں تھا کہ یہاں عورت نے حق مہر کی رقم معاف کی جو کہ دین کی صورت میں تھی۔ البتہ یہ مسئلہ ضرور ذہن نشین رہے کہ اگر حق مہر میں کوئی معین چیز مثلاً معین زمین یا کوئی اور معین سامان طے کیا، تو اب مہر معاف کرنے سے معاف نہیں ہو گا کہ عین چیز میں معافی درست نہیں، لہذا اس صورت میں عورت کو مطالبہ کا حق باقی رہے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.