Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عصر کی نماز کو قصداً لمبا کرکے مکروہ وقت میں لے جانے سے کیا نماز مکروہِ تحریمی ہوجاتی ہے؟
- Fatwa no.
- 12852-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے نماز عصر مکر وہ وقت سے پہلے ہی شروع کی، لیکن قصد ااس نماز کو اتنا طول دیا کہ دورانِ نماز ہی مکر وہ وقت شروع ہو گیا، تو کیا اس کی وہ نماز مکروہ تحریمی ہو گی ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اس شخص کی نماز بغیر کسی کراہت کے درست ادا ہو گئی۔ چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے : " لو شرع فيه قبل التغير فمده إليه لا يكره كذافي البحر الرائق ناقلا عن غایة البیان “ یعنی اگر کسی نے مکر وہ وقت سے پہلے نماز عصر شروع کی پھر اسے طول دیا یہاں تک کہ مکروہ وقت آگیا تو اس میں کراہت نہیں، ایسا ہی بحر الرائق میں غایۃ البیان سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الصلاة، ج1، ص52، دار الفکر) بحر الرائق میں مذکور ہے : ”لو شرع فيه قبل التغير فمده إليه لا يكره لأن الاحتراز عن الكراهة مع الإقبال على الصلاة متعذر فجعل عفوا كذا في غاية البيان " یعنی اگر کسی نے مگر وہ وقت سے پہلے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.