Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا ماموں کی پوتی سے نکاح ہوسکتا ہے؟
- Fatwa no.
- 12834-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیاماموں کی پوتی سے نکاح ہو سکتا ہے؟
Answer (beginning)
ماموں کی پوتی (ماموں زاد بھائی کی بیٹی کے ساتھ نکاح جائز ہے جبکہ حرمت کی کوئی اور وجہ مثلاً ر ضاعت وغیرہ نہ پائی جائے، کیونکہ قرآن عظیم میں جن عورتوں سے نکاح حرام قرار دیا گیا ہے ان کو واضح طور پر بیان کر دیا گیا ہے اور یہ لڑکی ان عورتوں میں سے نہیں۔ نیز فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق چا، تایا، پھوپھی، خالہ اور ماموں کی اولاد ، پھر آگے ان کی اولاد سے نکاح حلال ہے شرعا اس میں کوئی حرج والی بات نہیں۔ جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے ان کے تفصیلی ذکر کے بعد ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَأَحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاءَ ذلِكُم ترجمہ کنز الایمان : ” اور ان کے سوا جو ، رہیں وہ تمہیں حلال ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.