Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وقت کی تنگی کے باعث پیشاب وغیرہ کی شدت کے ساتھ پڑھی گئی نماز واجب الاعادہ ہوگی؟

Fatwa no.
12816-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب " اسلامی بہنوں کی نماز " کے صفحہ نمبر 119 اور 120 پر مذکور ہے: ” مکروہ تحریمی نمبر 4 تا6) پیشاب / پاخانہ / ریح کی شدت ہونا۔ اگر نماز شروع کرنے سے پہلے ہی شدت ہو تو وقت میں وسعت ہونے کی صورت میں نماز شروع کرنا ہی ممنوع و گناہ ہے۔ ہاں اگر ایسا ہے کہ فراغت اور وضو کے بعد نماز کا وقت ختم ہو جائے گا تو نماز پڑھ لیجئے۔“ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ وقت کی تنگی کے سبب جب اس حالت میں نماز ادا کر لی جائے تو کیا اس نماز کا اعادہ بھی واجب ہو گا؟

Answer (beginning)

جی ہاں ! فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق سوال میں جو صورت بیان کی گئی ہے اس موقع پر ادا کی گئی نماز بھی مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہو گی۔ تنویر الابصار مع الدر المختار کے مکروہات صلاۃ میں ہے : ”(صلاته مع مدافعة الاخبثين) او احدهما (اوالريح) یعنی پاخانہ اور پیشاب یا ان میں سے ایک یار یح کی شدت کے وقت نماز ادا کر نامکروہ تحریمی) ہے۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، کتاب الصلاة، ج 2، ص 492، مطبوعہ کوئٹہ) حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار میں اس سے متعلق مذکور ہے : ” تکرہ مع مدافعة الاخبثین او الریح ۔۔۔۔۔و الظاهر ان الكراهة تحريمية لتجويز هم رفض الصلاة لاجلها ولا ترفض للمکروہ تنزیھا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.