Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا رضاعی خالہ سے نکاح جائز ہے؟

Fatwa no.
12813-Nor

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا رضاعی خالہ سے نکاح جائز ہے ؟

Answer (beginning)

رضاعی خالہ سے نکاح حرام ہے کہ جو رشتے نسب سے حرام ہیں، رضاعت سے بھی حرام ہیں، لہذا حقیقی خالہ کی طرح رضاعی خالہ بھی محرمہ عورت ہے ، اس سے نکاح کرنا بھی ناجائز و حرام ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا: "وَآخَوتُكُمْ مِنَ الرَّضْعَة - ترجمہ کنز الایمان: (حرام ہوئیں تم پر ) دودھ کی بہنیں۔ (پارہ 04، سورة النساء، آیت نمبر 23) مذکورہ بالا آیت مبارکہ کی تفسیر میں صدر الافاضل مولاناسید نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں: ” دودھ پلانے والی کو شیر خوار کی ماں اور اس کی لڑکی کو شیر خوار کی بہن فرمایا اسی طرح دودھ پلائی کا شوہر شیر خوار کا باپ اور اس کا باپ شیر خوار کا دادا اور اس کی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.