Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حالتِ سفر میں نماز قضا ہوئی، گھر میں ادائیگی کے وقت اس قضا نماز کو قصر پڑھیں گے یا پوری؟
- Fatwa no.
- 12806-Nor
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید انڈیا کارہائشی ہے۔ حرمین شریفین کی زیارت کے لیے گیا تو مدینہ منورہ میں زید کا قیام 12 دن کا تھا، معاذ اللہ مدینہ منورہ میں زید کی ایک دن ظہر کی نماز قضا ہو گئی، اب زید کی اپنے وطن میں واپسی ہو گئی ہے۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ زید اپنے وطن میں وہ نماز ظہر پوری ادا کرے گا یا اب بھی اسے قصر ہی پڑھے گا؟
Answer (beginning)
مسافر شرعی کی چار رکعت والی فرض نماز اگر حالت سفر میں فوت ہو جائے تو اس کی قضا اگر چہ مقیم ہونے کی حالت میں پڑھے ، اس میں قصر ہی کرنی ہو گی، لہذا پوچھی گئی صورت میں زید پر لازم ہے کہ بلاوجہ شرعی نماز قضا کرنے کے گناہ سے تو بہ کرے اور قضا ہو جانے والی نماز ظہر میں قصر کرے یعنی دور کعتیں ادا کرے۔ چنانچه فتاوی عالمگیری وغیرہ کتب فقہیہ میں کچھ یوں مذکور ہے : ” و من حكمه أن الفائتة تقضي على الصفة التي فاتت عنه لعذر وضرورة فيقضي مسافر في السفر ما فاته في الحضر من الفرض الرباعي أربعا والمقيم في الإقامة ما فاته في السفر منھار کعتین۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.