Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا بیوی کا فطرہ شوہر پر واجب ہے؟

Fatwa no.
12805-Nor
Issued
29 رمضان المبارک 1444ھ / 120 اپریل 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا زید پر اپنی منکوحہ کا فطرہ بھی واجب ہو گا ؟ جبکہ ابھی صرف نکاح ہی ہوا ہے کچھ عرصے بعد رخصتی ہوتی ہے؟

Answer (beginning)

شوہر پر بیوی کا فطرہ واجب نہیں، خواہ رخصتی ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو، البتہ اگر شوہر بیوی کا فطرہ اس کی اجازت کے ساتھ اپنی طرف سے ادا کر دیتا ہے تو اس میں کوئی حرج والی بات نہیں، اس صورت میں بھی بیوی کا فطرہ ادا ہو جائے گا۔ شوہر پر بیوی کا فطرہ واجب نہیں۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری وغیرہ کتب فقہیہ میں کچھ یوں مذکور ہے: "ولا يؤدي عن زوجته ولا عن أولاده الكبار وإن كانوا في عياله ولو أدى عنهم أو عن زوجته بغير أمرهم أجزأهم استحسانا كذا في الهداية، وعليه الفتوى كذا في فتاوی قاضی خان ۔ “ ترجمہ : ” مرد پر اپنی زوجہ اور بالغ اولاد کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا واجب نہیں، اگر چہ وہ اس کے عیال ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.