Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تعدیلِ ارکان پوری طرح ادا نہیں کرنے والے کی نماز کا کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
12802-Nor
Issued
28 رمضان المبارک 1444ھ / 19 اپریل 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص تعدیل ارکان پوری طرح سے ادا نا کرے، تو اس کی نماز کا کیا حکم ہو گا ؟

Answer (beginning)

نماز میں تعدیل ارکان یعنی رکوع و سجود و قومہ و جلسہ میں کم از کم ایک بار سبحان اللہ کہنے کی قدر ٹھہر نا) واجب ہے اور واجبات نماز میں سے کسی بھی واجب کو بھولے سے ترک کرنے سے سجدہ سہو لازم ہو جاتا ہے۔ لہذا اگر نمازی بھولے سے تعدیل ارکان چھوڑ دے تو اس پر سجدہ سہو واجب ہو جائے گا۔ ہاں! اگر نمازی نے واجب ہونے کے باوجود سجدہ سہو نہ کیا تو اس کی نماز واجب الاعادہ ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.