Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رخصتی سے پہلے ہی شوہر کا انتقال ہوجائے تو کیا پھر بھی عدتِ وفات لازم ہوگی ؟
- Fatwa no.
- 12800-Nor
- Issued
- 24 رمضان المبارک 1444ھ / 15 اپریل 2023 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا نکاح ہوا مگر رخصتی نہیں ہوئی۔ وہ اپنی منکوحہ سے کبھی بھی تنہائی میں نہیں ملا، ہاں ایک دوشادی کے پروگرامز میں اس کی اپنی منکوحہ سے ملاقات ضرور ہوئی تھی، اب رضائے الہی سے زید کا انتقال ہو گیا ہے۔ بیان کردہ صورت میں آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ زید کی منکوحہ پر عدت لازم ہوگی یا نہیں ؟ اگر ہوگی تو کتنی عدت لازم ہوگی ؟
Answer (beginning)
عورت مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ ، بہر صورت اس پر عدت وفات لازم ہوتی ہے کیونکہ اس عدت کا سبب، موت ہے لہذا پوچھی گئی صورت میں زید کی منکوحہ پر بلاشبہ چار ماہ دس دن کی عدت وفات لازم ہے۔ عدت وفات کے متعلق ارشاد باری تعالی ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ أَشْهُرٍو عَشر ترجمہ کنز الایمان: ” اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو رو کے رہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.