Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا نمازِ تراویح میں بھی مقتدی کے لیے اقتداء کی نیت کرنا ضروری ہے؟

Fatwa no.
12792-Nor
Issued
17 رمضان المبارک 1444ھ / 108 اپریل 2023ء

Question

ضروری ہے؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص تراویح کی نماز امام کے پیچھے پڑھ رہا ہے تو کیا اس میں بھی اقتداء کی نیت کرناضروری ہے؟

Answer (beginning)

جی ہاں! امام کے پیچھے نماز تراویح کی درست ادائیگی کے لیے امام کی اقتداء کی نیت کرناضروری ہے، کیونکہ فرض واجب ہر کسی قسم کی نماز میں اقتداء درست ہونے کی شرائط میں سے پہلی شرط ہی یہ ہے کہ مقتدی اقتداء کی نیت کرے۔ چنانچہ در مختار میں ہے : " الصغری ربط صلاة المؤتم بالإمام بشروط عشرة: نية المؤتم الاقتداء “ یعنی امامتِ صغری سے مراد مقتدی کا دس شرائط کے ساتھ اپنی نماز کو امام کی نماز کے ساتھ ملانا ہے (اقتداء کی شرائط میں سے پہلی شرط) مقتدی کا اقتداء کی نیت کرنا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.