Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سوتیلے باپ کے بھائی سے نکاح کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 12784-Nor
- Issued
- 12 رمضان المبارک 1444ھ / 03 اپریل 2023ء
Question
دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں ہندہ کا اپنے سوتیلے باپ کے بھائی سے نکاح کر ناشر عاً جائز ہے ؟
Answer (beginning)
سوتیلے باپ کا بھائی محرم نہیں لہذا پوچھی گئی صورت میں ہندہ کا اپنے سوتیلے باپ کے بھائی سے نکاح کرناشر عا جائز ہے جبکہ حرمت کا کوئی اور سبب مثلاً ر ضاعت وغیرہ نہ پایا جائے۔ جیسا کہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق سوتیلی ماں کی ماں، بہن، بیٹی وغیرہ محارم نہیں، ان سے نکاح جائز ہے۔ جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے ان کے تفصیلی ذکر کے بعد ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿ وَأَحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذلِكُم ﴾ ترجمہ کنز الایمان : ” اور ان کے سواجو ر ہیں وہ تمہیں حلال ہیں۔“ (القرآن الکریم،پارہ 05، سورۃ النساء، آیت:24) سوتیلی ماں کے رشتہ دار محرمات میں سے نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.