Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ڈکیتی کے دوران اگر ڈاکو کو قتل کر دیا تو کیا اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھیں گے؟

Fatwa no.
2524-Gul

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسئلہ بیان کیا جاتا ہے کہ ڈکیتی کے دوران اگر کوئی ڈاکو قتل کر دیا جائے، تو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے ؟ شرعی رہنمائی فرما دیں۔ سائل: محمد قمر (سرگودھا)

Answer (beginning)

شریعت مطہرہ نے مسلمانوں کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کا درس دیا ہے اور مسلمانوں کے حقوق اور احترام کو بیان فرمایا ہے اور جو مسلمانوں کے حقوق کو پامال کرے اور ان پر ظلم کرے ، تو اس کے متعلق وعیدوں اور سزاؤں کو بھی بیان کیا ہے۔ اسی طرح دین اسلام میں معاشرتی اور ملکی نظام کے حقوق کے متعلق بھی رہنمائی کی گئی اور معاشرے کو پر امن بنانے کے لئے کئی احکامات ارشاد فرمائے ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.